انا للہ و انا الیہ راجعون۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک دن اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر واپس جانا ہی ہے۔ “جب احمدِ مرسلؐ نہ رہے، کون رہے گا۔”
یہ سوچ دل کو کچھ سکون تو دے دیتی ہے، مگر بعض لوگوں کا دنیا سے چلے جانا ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جو کبھی پُر نہیں ہوتا۔
انہی لوگوں میں ہمارے ماموں جان بھی تھے۔یقیں نہیں اتا کہ وہ چلے گئے ہیں اور اب ہم ان کو کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔
ہم سب بہن بھائی جب بھی اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں تو زیادہ تر یادیں ماموں جان کے ساتھ گزرا ہوا وقت ہی ہوتا ہے، چاہے وہ ناظم آباد ہو، نارتھ ناظم آباد ہو یا دستگیر۔ پھر کچھ برس ایسے بھی آئے جب رابطہ کم رہا، مگر جب وہ امریکہ منتقل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ یہ موقع عطا فرمایا کہ ہم ان کی شفقت، رہنمائی اور زیرِ سایہ اپنے بچوں کی تربیت کر سکیں۔
ہمیں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، بلا جھجک ماموں جان سے مشورہ کرتے، اور وہ ہمیشہ محبت، تحمل اور توجہ کے ساتھ سنتے اور رہنمائی فرماتے۔ایک ایسی علم دوست، شفیق اور باوقار ہستی ہم سے جدا ہو گئی ہے جس نے ہمیشہ بڑے اور چھوٹے کی تفریق کے بغیر ہر ایک کو عزت دی۔ کبھی اپنے نقطۂ نظر کو کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا۔ حوصلہ افزائی کرنا، دوسروں کو توجہ سے سننا، اور اگر اپنی غلطی ہو تو اسے مان لینا — یہ وہ خوبیاں ہیں جو بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں۔
انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ بڑے ہیں، اس لیے پہل کیوں کریں۔ اگر کئی دن گزر جاتے تو خود ہی محبت سے فون کر لیتے آہ… یہ خلا شاید کبھی پُر نہ ہو سکے گا۔ ہر محفل میں ان کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔ برف ہو، بارش ہو یا کوئی بھی موسم، ماموں جان ہمیشہ محبت اور خلوص کے ساتھ آتے تھے۔
انہوں نے جو خوبصورت legacy چھوڑی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسے اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کی خواہشات، نصیحتوں اور سکھائے ہوئے اصولوں پر عمل کرنے کی بھی ہم سب کو توفیق دے۔
اللہ تعالیٰ ماموں جان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
Leave a Reply